ذکرِ قلب کیا ہے؟ دل کی روحانی کیفیت اور اس کی حقیقت

ذکرِ قلب کیا ہے؟ دل کی روحانی کیفیت اور اس کی حقیقت

WhatsApp Channel Join Now

انسان جب روحانیت کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو سب سے پہلے جو سوال سامنے آتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ کیا ذکر صرف زبان سے کرنے کا نام ہے یا دل سے بھی کوئی تعلق ہے؟ صوفیاء کرام نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اصل ذکر وہ ہے جو دل کے اندر جاری ہو۔ اسی کو “ذکرِ قلب” کہا جاتا ہے۔

جسم کی روح اور دل کی روح

علمائے تصوف کے مطابق انسان میں صرف ایک ظاہری زندگی نہیں بلکہ ایک باطنی زندگی بھی ہوتی ہے۔ ایک روح وہ ہے جو جسم کو زندہ رکھتی ہے، جس کی وجہ سے سانس چلتی ہے اور دل دھڑکتا ہے۔ لیکن ایک اور روحانی حقیقت بھی ہے جس کا تعلق دل سے ہے۔ یہی دل دراصل انسان کی اصل پہچان اور مرکزِ شعور ہے۔

قرآنِ مجید میں بھی دل کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ اصل اندھا پن آنکھوں کا نہیں بلکہ دلوں کا ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دل محض گوشت کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک روحانی مرکز ہے۔

دل کی نورانیت اور سیاہی

اکثر کہا جاتا ہے کہ نیک بندے کا دل نورانی ہوتا ہے اور گناہ گار کا دل سیاہ۔ اگرچہ آپریشن کے دوران ڈاکٹر جو دل دیکھتے ہیں وہ سب کا ایک جیسا ہوتا ہے، مگر نورانیت یا سیاہی ظاہری دل میں نہیں بلکہ روحانی دل میں ہوتی ہے۔ یہی وہ باطنی کیفیت ہے جو اعمال کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔

حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ انسان کا دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دل کا اصل تعلق اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت سے ہے۔ وہی دلوں کو پھیرنے والا ہے۔

ذکر کے دوران دل کی کیفیت

جب انسان پختہ ارادہ کرکے خاموشی سے ذکر کے لیے بیٹھتا ہے اور دل کی طرف توجہ کرتا ہے تو ابتدا میں ایک ہلکی سی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہلکا سا درد یا کھنچاؤ بھی ہوتا ہے۔ یہ کوئی بیماری کی علامت نہیں بلکہ روحانی بیداری کی ایک کیفیت ہو سکتی ہے۔

دل کی عام دھڑکن ایک منٹ میں تقریباً 60 سے 70 مرتبہ ہوتی ہے۔ لیکن ذکر کے دوران جو حرکت محسوس ہوتی ہے وہ عام پمپنگ سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ ایک لطیف سی وائبریشن یا اندرونی جنبش ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ پورے وجود میں سرایت کرنے لگتی ہے۔

درد کیوں محسوس ہوتا ہے؟

بعض لوگ ذکر کے آغاز میں دل کے مقام پر ہلکا سا درد محسوس کرتے ہیں۔ اسے گھبرانے کی ضرورت نہیں، بشرطیکہ پہلے سے کوئی طبی مسئلہ نہ ہو۔ صوفیاء اسے اس مثال سے سمجھاتے ہیں جیسے پنجرے میں قید پرندہ باہر نکلنے کی کوشش کرے تو ہلکی سی تکلیف ضرور ہوتی ہے۔ اسی طرح جب دل کے تالے کھلتے ہیں تو ایک نئی کیفیت جنم لیتی ہے۔

یہ درد عارضی ہوتا ہے اور اس کے بعد ایک لطیف سی حرکت اور پھر سکون کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

ذکر زبان سے نہیں، دل سے

بہت سے لوگ ذکر کے وقت زبان سے زور زور سے “اللہ اللہ” کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہی اصل ذکر ہے۔ حالانکہ اصل مقصد یہ ہے کہ دل خود ذکر کرے اور انسان سننے والا بن جائے۔ طریقہ یہ ہے کہ خاموشی سے بیٹھ کر دل کی طرف توجہ دی جائے، جیسے کوئی دل کی آواز سننے کی کوشش کر رہا ہو۔

شروع میں ہلکی سی حرکت، پھر مسلسل کیفیت، اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان کو محسوس ہوتا ہے جیسے دل خود “اللہ اللہ” کہہ رہا ہے۔ یہی ذکرِ قلب کی منزل ہے۔

حرکت سے سکون تک کا سفر

ابتدا میں جو کیفیت حرکت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، وقت کے ساتھ وہ سکون اور اطمینان میں بدل جاتی ہے۔ پہلے دل میں جنبش ہوتی ہے، پھر ایک لطیف سا سرور پیدا ہوتا ہے۔ یہ کیفیت نہ بہت زور دار ہوتی ہے اور نہ جھٹکوں والی، بلکہ نہایت نرم، باریک اور روحانی ہوتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا دل زندہ ہو جاتا ہے اور ذکر اس کی فطرت بن جاتا ہے۔

Read Also:- حضرت سلمان فارسیؓ: سچ کی تلاش سے اہلِ بیتؓ تک کا ایمان افروز سفر

نتیجہ

ذکرِ قلب کوئی فوری حاصل ہونے والی چیز نہیں بلکہ مسلسل مشق، اخلاص اور رہنمائی کا تقاضا کرتی ہے۔ جب انسان سچے دل سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کے دل کے بند دروازے آہستہ آہستہ کھلنے لگتے ہیں۔ ابتدا میں ہلکی سی تکلیف، پھر حرکت، پھر سکون اور آخرکار ایک دائمی روحانی لذت۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top