کتابوں میں ایک عجیب مگر سبق آموز واقعہ ملتا ہے۔ ایک بادشاہ کی نوجوان بیٹی نے محسوس کیا کہ اس کے کپڑے غیر معمولی طور پر صاف ستھرے اور خوش سلیقہ انداز میں دھل کر آتے ہیں، جبکہ محل کی دوسری عورتوں کے کپڑوں میں یہ بات نہیں تھی۔ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ کپڑے دھونے والا ایک دھوبی کا نوجوان بیٹا ہے، جس نے شہزادی کے حسن و جمال کا چرچا سنا تھا۔ جب اسے علم ہوا کہ شہزادی کے کپڑے اسی کے پاس آتے ہیں تو وہ انہیں غیر معمولی محبت اور توجہ سے دھونے لگا۔
وقت کے ساتھ یہ راز کھلا کہ نوجوان شہزادی کی محبت میں مبتلا ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ اس کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کر سکتا۔ مگر جب شہزادی نے دیکھا کہ یہ جذبہ حد سے بڑھ رہا ہے تو اس نے پیغام بھجوایا کہ ان دونوں کا ملنا ممکن نہیں۔ البتہ ایک راستہ بتایا کہ اس کے والد علما اور اہلِ ذکر سے دعا کرواتے ہیں، اگر وہ نوجوان بھی اسی راہ کو اختیار کرے تو شاید کبھی ملاقات ہو جائے۔
نوجوان نے شہر سے باہر خیمہ لگا لیا اور برسوں ذکر و عبادت میں مشغول رہا۔ اس کی سادگی اور اخلاص دیکھ کر لوگ اسے نیک سمجھنے لگے۔ حتیٰ کہ بادشاہ خود دعا کروانے پہنچا اور بعد میں شہزادی بھی وہاں آئی۔ جب اس نے اپنا تعارف کروایا تو نوجوان نے نگاہ تک نہ اٹھائی۔ حیرانی پر اس نے کہا: وہ محبت جو کبھی دل میں تھی، اللہ کے ذکر نے اسے نکال دیا ہے۔ اب دل میں صرف اللہ کی محبت باقی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کا ذکر دل کو بدل دیتا ہے۔ ابتدا اگرچہ دنیا سے ہو، مگر اللہ کے نام کی برکت انسان کو خالص محبت تک پہنچا دیتی ہے۔ حضرت مولانا رومؒ نے فرمایا کہ چاہے ذکر دنیا کے لیے ہو یا دین کے لیے، اللہ اللہ کرتے رہو، انجام اخلاص ہی ہوگا۔
اللہ کی محبت بڑھانے کے اسباب
کثرتِ ذکر: اللہ کا نام بار بار لینا دل کو نرم کرتا اور محبت پیدا کرتا ہے۔
تلاوتِ قرآن مع تدبر: قرآن اللہ کی طرف سے بندوں کے لیے پیغام ہے۔ جیسے محبوب کا خط بار بار پڑھا جاتا ہے، ویسے ہی قرآن کو شوق سے پڑھنے سے دل میں محبت بڑھتی ہے۔
نوافل کی پابندی: فرائض کے بعد نوافل ادا کرنا اللہ کی قربت کا ذریعہ ہے۔ جو بندہ اپنا وقت اللہ کے لیے نکالتا ہے، اللہ اس سے محبت فرماتے ہیں۔
سجدے کی لذت: جنہیں اللہ سے محبت ہوتی ہے، انہیں سجدے میں سر رکھ کر سکون ملتا ہے۔ ان کے لیے عبادت ثواب نہیں، محبت ہوتی ہے۔
گناہوں سے اجتناب: گناہ دل کو سخت کر دیتے ہیں اور عبادت کی لذت چھین لیتے ہیں۔ پاکیزگی دل میں محبت کو زندہ رکھتی ہے۔
اللہ کی نعمتوں پر غور: بینائی، سماعت، عقل، ایمان—یہ سب اللہ کی عطا ہیں۔ ان پر غور شکر اور محبت پیدا کرتا ہے۔
ٹوٹے دل کا مقام: مصیبت میں صبر کرنے والے کے ٹوٹے دل میں اللہ کی رحمت اترتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ ٹوٹے دلوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔
تہجد اور تنہائی: رات کے آخری پہر اللہ کے حضور کھڑا ہونا محبت کی علامت ہے۔ جو اللہ کا چاہنے والا ہوتا ہے، نیند قربان کر دیتا ہے۔
اہلِ اللہ کی صحبت: اللہ والوں کے ساتھ بیٹھنے سے دل میں خود بخود اللہ کی محبت منتقل ہوتی ہے، جیسے آگ کے پاس لوہا گرم ہو جاتا ہے۔
نتیجہ
اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندوں سے محبت کرتا ہوں۔ دنیا کی ہر محبت کسی نہ کسی غرض سے جڑی ہوتی ہے، مگر اللہ کی محبت بے غرض ہے۔ جو بندہ سچی نیت سے اللہ کی طرف قدم بڑھاتا ہے، اللہ اسے اپنی قربت عطا فرماتے ہیں۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان دنیا کی خواہشات کے بجائے اللہ کی محبت کو اپنی آرزو بنا لے۔
